ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری میں پانی کی قلت سے مودی کو واقف کرایا جائے گا؛وزیراعظم کو عنقریب سدرامیا کا مکتوب: شیوکمار

کاویری میں پانی کی قلت سے مودی کو واقف کرایا جائے گا؛وزیراعظم کو عنقریب سدرامیا کا مکتوب: شیوکمار

Thu, 18 Aug 2016 12:26:45    S.O. News Service

بنگلورو17؍اگست(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور)کاویری طاس کے علاقوں میں بارش کی قلت کے سبب اس بار کرناٹک کو درپیش مشکلات سے واقف کرانے کیلئے وزیر اعلیٰ سدرامیا جلد ہی وزیر اعظم مودی کو ایک مکتوب روانہ کرنے والے ہیں۔ یہ بات آج وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار نے کہی۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل کی طے کردہ مقدار میں تملناڈو کو پانی کی فراہمی نہ کئے جانے کے سلسلے میں وہاں کی حکومت نے جوتنازعہ کھڑا کیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ وضاحت ضروری ہے کہ کرناٹک میں پانی ہی نہ ہو تو تملناڈو کو کہاں سے مہیا کرایا جاسکتا ہے۔ پانی کی قلت کے مسئلے سے حکومت وزیر اعظم کو بھی آگاہ کرانا چاہتی ہے۔ پچھلے 40 سال کے دوران کاویری طاس میں پانی اس قدر کم نہیں ہوا تھا ، جو اس بار ہوا ہے۔ کل ہی وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کرشنا راجہ ساگر مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ میں یہ طے کیاکہ یہاں جمع پانی زراعت کیلئے استعمال میں نہ لایا جائے اور پینے کیلئے محفوظ رکھا جائے، پھر بھی 30 اگست تک تملناڈو کو دیا جانے والا پانی برقرار رکھا جائے گا۔ 31 اگست سے 10 ستمبر تک پانی کی فراہمی روک دی جائے گی، اور 10 ستمبر کو مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد دوبارہ پانی کی فراہمی بحال کرنی ہے یا نہیں غور کیا جائے گا۔ شہر بنگلور سمیت آس پاس کے علاقوں کیلئے پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے 15؍ ٹی ایم سی فیٹ پانی درکار ہے۔ زرعی ضروریات کیلئے اگر پانی استعمال کیاگیا تو کم از کم 40ٹی ایم سی فیٹ پانی درکار ہے۔ اگلے دسمبر تک کے آر ایس میں 25 ٹی ایم سی فیٹ پانی جمع ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان حالات میں کسانوں کی فصلوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے ، کھڑی فصلوں کو کٹنے تک پانی کا انتظام کیا جائے اس کیلئے بھی محکمۂ توانائی، محکمۂ آبپاشی ، گرام پنچایتوں اور محکمۂ مالگذاری کے افسران کو ضلعی سطح پر طلب کرکے صورتحال سے نمٹنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے کہاکہ ریاست میں بجلی کی صورتحال اطمینان بخش ہے، مشکل کے باوجود بھی حکومت عوام کو بجلی فراہم کرنے کی پابند رہے گی۔بارش کی قلت کے سبب کرناٹکا پاور کارپوریشن کو ڈھائی ہزار کروڑ روپیوں کے نقصان کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ برقی قوت کی پیداوار میں 60 فیصد گراوٹ آئی ہے، بارش کی کمی اگر برقرار رہی تو بیرونی ذرائع سے بجلی کی خریداری کرکے عوام کو سپلائی کی جائے گی۔اس کیلئے درمیانی مدت کے ٹنڈر طلب کئے گئے ہیں۔ بجلی کی خریداری فی یونٹ 4.36 روپیوں میں کرنے کیلئے معاہدہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ تملناڈو کے کوڈنگ کولم نیو کلیئر توانائی پراجکٹ سے 209میگاواٹ بجلی مل رہی ہے۔ ساتھ ہی یرمراس پاور پلانٹ سے بھی وافر مقدار میں بجلی مل رہی ہے۔ کولار میں بجلی کی پیداوار شروع ہونے کیلئے ایک سال کا عرصہ درکار ہے، جس کے بعد کسانوں کو ہمہ وقت تھری فیس بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔


Share: